بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چین میں کٹے ہوئے ناخن مہنگے داموں فروخت ہونے لگے!

کیا آپ بھی ناخن کاٹنے کے بعد انہیں فوراً کوڑے دان کی نذر کر دیتے ہیں؟ اگر ہاں، تو شاید آپ اپنی ایک قیمتی چیز کو ضائع کر رہے ہیں۔ حیران نہ ہوں، چین میں واقعی کٹے ہوئے انسانی ناخن سونے کی یمت میں بک رہے ہیں – اور اس کے پیچھے ایک حیران کن وجہ ہے!
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، چین میں تیار کی جانے والی روایتی ادویات میں انسانی انگلیوں کے ناخن استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مقامی دوا ساز کمپنیاں اسکولوں اور دیہاتوں سے یہ ناخن خریدتی ہیں، انہیں اچھی طرح صاف کیا جاتا ہے، باریک پاؤڈر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور پھر مختلف بیماریوں خصوصاً بچوں کے پیٹ درد اور ٹانسلز کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔
ایک بالغ شخص کے ناخن سالانہ اوسطاً صرف 100 گرام کے قریب بڑھتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک محدود اور قیمتی ’’خام مال‘‘ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیمت کافی زیادہ ہو چکی ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق، ایک خاتون اپنے جمع کیے گئے ناخن 21 ڈالر فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی اپنے ناخن جمع کرتی آ رہی ہیں اور یہ عادت اب ان کے لیے ایک منافع بخش ذریعہ بن چکی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1960 کے بعد، جب نیل پالش کا استعمال بڑھا، تو روایتی ادویات میں ناخنوں کا استعمال کم ہو گیا تھا۔ تاہم، اب اس رجحان میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ دوا سازی کے لیے صرف ہاتھوں کے ناخن ہی قابلِ قبول سمجھے جاتے ہیں، پاؤں کے ناخن نہیں۔ خریداری سے قبل ناخنوں کو باریک بینی سے چیک کیا جاتا ہے اور مکمل صفائی کے بعد ہی دواؤں میں استعمال کے قابل سمجھا جاتا ہے۔