حماس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ غزہ سے دستبردار نہیں ہوگی۔ دوحہ میں غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں حماس رہنما غازی حمد نے کہا کہ ہم نے 7 اکتوبر کے بعد بھاری قیمت ادا کی ہے، اس لیے منظر سے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حمد نے غزہ میں تباہی کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو جانی و مالی نقصان ضرور ہوا، مگر اسے کسی اقدام پر پچھتاوا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے تو حماس اپنے ہتھیار فلسطینی فوج کے سپرد کرنے پر تیار ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں یرغمالیوں کی رہائی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، اور حماس کے بغیر نیا حکومتی نظام قائم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
دوسری جانب حماس رہنما طاہر النونو نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کوخبطِ عظمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست عالمی حمایت سے ہی قائم ہوگی، چاہے اسرائیل مخالفت کرے۔
اگر آپ چاہیں تو اسے خبروں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا سوشل میڈیا پر بطور اپڈیٹ شیئر کیا جا سکتا ہے۔









