بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تمام امریکی جرنیل ہنگامی اجلاس میں طلب، فوجی حلقوں میں بے چینی

— امریکی وزیرِ دفاع (نئے عہدے کے تحت ’’وزیرِ جنگ‘‘)پیٹ ہیگسیتھ نے دنیا بھر میں تعینات اعلیٰ فوجی قیادت کواگلے ہفتے ورجینیا کے کوانٹیکو میں غیر معمولی اجلاس کے لیے طلب کر لیا ہے۔
یہ اچانک بلایا گیا اجلاس امریکی دفاعی حلقوں میں حیرت اور کچھ سطح پر بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، سینئر امریکی جرنیل اور ایڈمرلز—جو اکثر ہزاروں فوجیوں کی کمان سنبھالتے ہیں اور ان کے شیڈول ہفتوں پہلے طے ہو چکے ہوتے ہیں—اب اپنی منصوبہ بندی تبدیل کرنے میں مصروف ہیں۔
ایک اعلیٰ دفاعی عہدیدار نے گمنامی کی شرط پر بتایاکہ سب لوگ الجھن میں ہیں، اچانک بلائے جانے والے اس اجلاس کی وجہ واضح نہیں، اور یہی چیز سب کو پریشان کر رہی ہے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اجلاس کاایجنڈا کیا ہے، کون کون شریک ہوگا یااتنے کم نوٹس پر یہ فیصلہ کیوں لیا گیا۔
پینٹاگون کے ترجمان ’’شان پرنیل‘‘ نے اس حوالے سے تفصیلات دینے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہاکہ وزیرِ جنگ آئندہ ہفتے کے آغاز میں سینئر فوجی رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔
دوسری جانب،وائٹ ہاؤس کے نائب صدر جے ڈی وینس نے وضاحت کی کہ اس طرح کے اجلاس غیر معمولی نہیں ہوتے، تاہم فوجی ماہرین کے مطابق ایک ساتھ اتنے اعلیٰ افسران کا جمع ہونا انتہائی کم ہی ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی افواج جنوبی کوریا، جاپان، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر حساس خطوں میں تعینات ہیں، جن کی کمان2، 3 اور 4 اسٹار جنرلز کے پاس ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ممکن ہے یہ اجلاس معمول کی بریفنگ ہی ہو، مگراجلاس کی نوعیت، وقت اور وضاحت کی کمی اسے خاصا غیرمعمولی بنا رہی ہے۔
مزید یہ کہ سابق صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر محکمہ دفاع کا نام تبدیل کر کے’’محکمہ جنگ‘‘ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے لیےکانگریس کی منظوری درکار ہے۔ اس تبدیلی کے تناظر میں بھی اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔