تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ غزہ میں فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں ہو رہی اور آپریشنل صورتحال میں مسلسل تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ان کے بقول فوجی کامیابیاں سیاسی میدان میں منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اگر سیاسی راستہ کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل دوبارہ لڑائی میں واپس آجائے گا۔
ضمیر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ہر میدان میں دشمن کو تباہ کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ میں حقائق تبدیل کر رہا ہے، جس کا مطلب وہ آپریشنل اور اسٹریٹجک اثرات ہیں جو علاقے کی صورتحال بدل سکتے ہیں۔
فوجی سربراہ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری حکمتِ عملی اور سیاسی کوششیں ایک ساتھ چل رہی ہیں، مگر سیاسی فصیلہ سازی تک فوجی دباؤ کو کم کرنے کا کوئی حتمی اشارہ موجود نہیں۔ ضمیر کے الفاظ نے خدشات بھی جنم دے دیے ہیں کہ اگر مذاکرات یا سیاسی دباؤ نتائج نہ دے سکا تو عسکری حکمتِ عملی دوبارہ فعال کی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر ردعمل میں شدت آ سکتی ہے، کیونکہ جغرافیائی و انسانی پیچیدگیاں اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ متعلقہ فریقوں اور عالمی اداروں کی طرف سے مستقبل قریب میں اٹھنے والے بیانات اور رد عمل اہمیت کے حامل ہوں گے۔









