بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میں نے جسٹس جاوید اقبال کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی، فواد حسن فواد

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق پرنسپل سیکریٹری، فواد حسن فواد نےایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کے قانون میں کچھ چیزیں ایسی تھیں جو بہرحال ہمارے آئین سے متصادم تھیں ان کو تبدیل ہونا چاہئے تھا۔ گزشتہ چار سال کے دوران نیب کے قانون کا استعمال غلط کیا گیا ہمارے ریکارڈ میں بہت سی چیزیں ہیں، میں نے جسٹس جاوید اقبال کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی، ڈیڑھ صفحہ میرے سامنے رکھ کر کہا گیا اس پر دستخط کردیں آپ کو بھیج دیں گے ، ۔ میں نیب قوانین میں ترامیم سے منسلک نہیں ہوا میں نے اپنے آپ کو اس سے دور رکھا ہے۔ میرے پاس اس کے حوالے سے مشورہ دینے کا اخلاقی جواز نہیں ہے جب میں اس کا ایک ملزم ہوں۔کمال یہ ہے جس دن لاہور ہائی کورٹ نے میرے حق میں فیصلہ دیااسی دی شام کو سوشل میڈیا پریہ بھرمار ہوگئی کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کا پہلا فائدہ فواد حسن کو پہنچ گیااس دن تک ابھی وہ قانون بنا بھی نہیں تھا۔میرا تمام کیس نیب کے پرانے قانون کے مطابق چل رہا ہے اس کی کوئی ترمیم ایسی نہیں ہے جس کا ہم فائدہ لینا چاہیں۔ پی ٹی آئی کو نیب قوانین میں ترامیم پر پارلیمنٹ میں اپنا نقطہ نظر سامنے رکھنا چاہئے تھا۔ نیب کے قانون میں کچھ چیز میں ایسی تھیں جو بہر حال ہمارے آئین سے متصادم میں ان کو تبدیل ہونا چاہئے تھا۔ گزشتہ چار سال کے دوران نیب کے قانون استعمال غلط کیا گیا ہمارے ریکارڈ میں بہت کی نیز میں ہیں ۔ چیئر مین نیب کے پاس گر فتاری کا پاور ہوتا غلط تھا اور اس کا بہت زیادہ غلط استعمال کیا گیا۔ آشیانہ کیس میں جب مجھے گرفتار کیا گیا تو وارنٹ گرفتاری جس پر موصول ہوا۔ اس وقت کے ایک سینئر عہد یدار کو ا یا گیا اور ان کو یہ کہا گیا کہ اسے سمجھا میں ڈیڑھ صفحہ رے سامنے رکھا گیا کہ اس پر دستخط کرد میں ہمارا آپ کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ چلے جائیں ۔اس ڈیڑھ صفحے پر جو کچھ بھی لکھا ہوا تھا وہ اگرسچ ہوتا تو میں ضرور دستخط کر دیتا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ ہم آپ کو عدالت کے سامنے بھی پیش نہیں کریں گے یہ صرف تحریری دستخط کے ساتھ ہمارے پاس موجود رہے گا اگر ضرورت پڑی تو استعمال کریں گے۔ جو نیب کی اس وقت کی جیل تھی اس کے حالات ایسے نہیں تھے جو کسی بھی مہذب ملک میں کسی بھی جیل میں ان لوگوں پر جن پر ابھی الزام ہو بلکہ جہاں پر لوگوں کو مجرم بھی مان لیا جاتا ہے سزا میں بھی دے دی جاتی ہیں پھر بھی کچھ بنیادی چیز نہیں ان کو فراہم کی جاتی ہیں۔ جب جیل میں جولائی کے مہینے میں صبح سویرے تیار ہو کر کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ پنکھے کا ایک پر ٹوٹ کر اس جگہ پر آ گرا جہاں میں چند لمحے پہلے بیٹھا ہوا تھا اگر وہاں سے اٹھنے میں ذرا سے تاخیر ہوئی تو وہ پر میرے بدن میں پیوست ہوجاتا ۔ 26 سال کی عمر میں مجھے کمر میں ایک چوٹ آئی تھی جس میں میری کمر میں تین فریکچر ہیں ۔ جو وہاں کا ڈاکٹر تھا اس نے تجویز کیا کہ ان کا ایم آر آئی کروا لیا جائے یہ بات چیئر مین نیب تک گئی ایک خاص ہسپتال میں ایک خاص ڈاکٹر سے یہ انتظام کیا گیا کہ آپ نے رپورٹ کیا تحریر کرنی ہے۔ 19 مہینے کی جیل میں میں نے ایک ان بھی ہسپتال جانے کی فرمائش نہیں کی ۔جوسب سے تکلیف دہ بات وہ سیدھی کہ باتھ روم میں کیمرہ لگا ہوا تھر اس میں کیمرے لگےہوئے تھے ۔ یہ سب کو نظر آتا تھا سب کے علم میں تھا انسانی اخلاقیات کے حوالے سے یہ کس نوعیت کی چیز ہے جو وہاں پڑھی ۔ میرے اور احد کے بارے میں یہ خصوصی ہدایات تھیں کہ انہیں جھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جائے یہی کہا جا تا تھا کہ اوپر سے احکامات ہیں سات مہینے ہمیں ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا جا تا رہا۔ میری ضمانت کی درخواست 11 مہینے تک ایک چیف جسٹس صاحب کے چیمبر میں پڑی رہی چار میرے وکیل نے جلد ساعت کی درخواستیں دمیں چاروں مرتبہ وہ چیمبر میں ٹرن ڈاؤن ہوگئیں کوئی فیصلہ بھی نہیں ہوا۔ جو مجھ پر آشیانہ میں الزامات عائد کئے گئے ان میں سے ایک بھی اب ریفرنس کا حصہ نہیں ہے۔