اسلام آباد(کامرس ڈیسک) تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ موجودہ اکنامک ماڈل انتہائی ناقص اور اشرافیہ نوازی پر مبنی ہے جو ملک کو دیوالیہ توکر سکتا ہے مگر کبھی ترقی کرنے نہیں دے گا۔غیر ضروری درامد شدہ اشیاء عوام نہیں بلکہ صاحب ثروت لوگ استعمال کرتے ہیں جس سے زرمبادلہ ضائع ہوتا ہے۔ اشرافیہ کی خوشی کے لئے ملک پر قرضوں کا بوجھ لادا جاتا ہے جسے ادا غریب عوام کرتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کوئی حکومت حقیقی ترقی نہیں چاہتی بلکہ مصنوعی ترقی کے لئے کوشاں رہتی ہے۔ مصنوعی ترقی کی ہر کوشش کا نتیجہ بھاری خسارے اور بحران کی صورت میں نکلتا ہے جس کے بعد قرضے لے کر ملک کو بچایا جاتا ہے۔ ملک میں غیر زمہ دارانہ کھپت عروج پرہے،غیر ضروری درامدات کی بھرپور حوصلہ افزائی جاری ہے جبکہ بچت اور پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری تقریباً ناممکن بنا دی گئی ہے اس لئے سارے ملک کی توجہ پراپرٹی مارکیٹ اور ٹریڈنگ کی طرف ہو گئی ہے۔انوسٹرصنعت کے نام پر سستے قرضے لے کر سرمایہ پراپرٹی مارکیٹ میں لگا دیتے ہیں۔جب تک درامدات بلا روک ٹوک جاری رہیں گی ملک میں ڈالر کی طلب بڑھتی رہے گی اور روپیہ کمزور ہوتا رہے گا۔ حکومتیں زمینی حقائق جو نظر انداز کر کے سستی شہرت کی خاطرقرضے لے کر بہتر شرح نمو، کم مہنگائی اور روپے کے استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں مگر اصلاحات نہیں کی جاتیں جس کا نتیجہ میں ہر دو تین سال بعد بحران آ جاتا ہے جسے حل کرنے کے لئے کشکول اٹھا لیا جاتا ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ روپے کوبرامدات اور سرمایہ کاری کے بجائے سٹیٹ بینک کے ڈالر بیچ کر مستحکم رکھنے کی پالیسی تباہ کن ہے جس پر کئی دہائیوں سے عمل کیا جا رہا ہے۔اب آئی ایم ایف نے پٹرولیم کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے سمیت کئی مزید اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے قرضے کی قسط کی ادائیگی اگست تک لٹک سکتی ہے جس سے معیشت پر منفی اثر پڑے گا اس لئے یہ زیادتی نہ کی جائے۔
موجودہ اکنامک ماڈل ناقص،اشرافیہ نوازی پر مبنی ہے ،شاہد رشید بٹ








