وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ بیانات اور ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریاست کسی کو بھی ملک کے حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ انتشار، شر انگیزی اور سڑکوں پر طاقت کا مظاہرہ کرکے ریاست کو بلیک میل کرنے کی روش اب برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی گروہ نے امن و امان کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو اتحاد، یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے، نہ کہ نفرت، افراتفری اور تصادم کی سیاست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جو مذہب یا عقیدے کے نام پر عوام کو گمراہ کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنائے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ قانون شکنی یا تشدد کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ پر سمجھوتہ ممکن نہیں، اور کوئی گروہ خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر ملک کی سلامتی اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عطا تارڑ نے وکلا، میڈیا اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں ریاستی مؤقف کو سپورٹ کریں تاکہ پاکستان کو انتشار کی سیاست سے محفوظ رکھا جا سکے۔
عطا تارڑ کی ٹی ایل پی کو وارننگ: ملکی حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی








