سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر گردش کر رہی ہیں جنہیں پروپیگنڈا مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے دعووں کی بنیاد پر حکومت کی طرف سے خدشات کا اظہار منطقی ہے کیونکہ جھوٹی یا منظرناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے والا مواد عوام میں خوف، بدامنی اور غلط فہمیاں پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خبردار کرنے والی بات یہ ہے کہ ایسے مواد کو فوری طور پر حقیقت تسلیم نہ کیا جائے؛ تصدیق کے بغیر شیئرنگ سے صورتحال مزید بھڑک سکتی ہے۔
ذرائع ابلاغی اور حکومتی بیانات کے مطابق سرحدی بندش کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ادارے اضافی چوکیوں، موبائل چیک پوسٹس اور نگرانی بڑھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت ممکنہ پروپیگنڈا اور جعلی مواد کے خلاف قانونی کارروائیوں کے لیے فریم ورک مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم، اس بارے میں تفصیلی قانونی راستہ کار اور اس کے معاشی و سفارتی مضمرات کی تصدیق افسران سے براہِ راست بیانات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
سوشل میڈیا پر انتشار اور جعلی تصاویر، اے آئی بیسڈ پروپیگنڈا








