بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کے-الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق اہم انکشافات

کے-الیکٹرک کی ملکیت اور انتظامی کنٹرول سے متعلق اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں، جنہوں نے کمپنی کے مستقبل اور اس کے معاملات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ تفصیلات ایک مکتوب کے ذریعے سامنے آئیں، جو کے-الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن شان اشعری کی جانب سے تحریر کیا گیا اور کمپنی سیکریٹری نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ارسال کیا۔ اس مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ کے-الیکٹرک کی اصل ملکیت **KESP (کیس پاور) کے پاس ہے، جس میں شہریار چشتی کی براہِ راست کوئی سرمایہ کاری موجود نہیں۔
مکتوب کے مطابق کیس پاور میں الجمومیہ گروپ، دینہم انویسٹمنٹ اور ایس پی وی 21 (SPV-21) سرمایہ کار کے طور پر شامل ہیں۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ SPV-21 کی نمائندگی کیسی میکڈونلڈ نامی فرد کرتے ہیں، اور قانونی طور پر وہی کمپنی کے حصص کی فروخت کے مجاز ہیں۔
دستاویزات میں ایک اہم الزام بھی سامنے آیا ہے کہ شہریار چشتی نے SPV-21 کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، دیگر سرمایہ کاروں یعنی الجمومیہ اور دینہم انویسٹمنٹ کی رضامندی کے بغیر، کمپنی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو سرمایہ کار گروپس نے شہریار چشتی کے خلاف کیمن آئی لینڈ کی گرینڈ کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس پر سماعت جاری ہے۔
مکتوب میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہریار چشتی کے پاس KESP میں حصص کی فروخت یا کسی بھی قسم کا کنٹرول حاصل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے بھی اس مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ SPV-21 پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی بھی کوشش شیئر ہولڈنگ معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گی۔
یہ انکشافات نہ صرف کے-الیکٹرک کی ملکیت سے متعلق ابہام کو دور کرنے کی کوشش ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ کمپنی کے اندرونی معاملات کس حد تک پیچیدہ اور قانونی تنازعات سے جُڑے ہوئے ہیں۔