وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اہم اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی غیر حاضری کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اجلاس میں تمام متعلقہ ادارے اور صوبوں کی نمائندگی موجود تھی، لیکن وزرائے اعلیٰ میں صرف سہیل آفریدی شریک نہ ہوئے اور ان کی جگہ مزمل اسلم نے نمائندگی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے امن و امان سے جُڑے اس اجلاس میں وزیراعلیٰ کی شرکت بہت ضروری تھی، کیونکہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی اجلاس میں شرکت کر کے مسائل حل کرنے پر یقین نہیں رکھتے، اور پاکستان نے غزہ اور فلسطین کے معاملے پر بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ہر موقع پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کی ہے اور اللہ کے فضل سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کی کوششوں سے پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بڑھا ہے اور ملک میں معرکہ حق کے بعد پاکستانیوں کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ عوام نے ٹی ایل پی اور تحریک انصاف کی احتجاجی کالوں کو مسترد کر دیا ہے، اور بے مقصد احتجاج سے صرف کاروباری زندگی متاثر ہوتی ہے، لیکن ملک بھر میں عام زندگی رواں دواں ہے۔
سہیل آفریدی کی افغان اجلاس میں عدم شرکت پر عطاء اللہ تارڑ کا تنقیدی ردعمل








