بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیمآر ایس ایس اور حکمران جماعت بی جے پی کے گٹھ جوڑ نے ملک کے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ انتہاپسند نظریات کے خلاف آواز اٹھانا اب سیاست دانوں کے لیے بھی خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
کرناٹک سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے وزیر پریانک کھرگے کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی کے مطالبے کے بعد جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص — جسے آر ایس ایس کا کارکن بتایا جا رہا ہے — کھلے عام انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
پریانک کھرگے نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے شدید ردِعمل دیا اور کہا کہ آر ایس ایس کو مودی سرکار ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے اور سیاسی مخالفین کی آواز دبائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نہ صرف آر ایس ایس کےانتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ ریاستی سطح پر اسے نظریاتی اور عملی سپورٹ بھی حاصل ہے۔
پریانک کھرگے نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ آر ایس ایس کی غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے، کیونکہ یہ تنظیم معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے اور شہریوں کے ذہنوں میں نفرت، تعصب اور شدت پسندی کا زہر بھر رہی ہے۔یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ بھارت میں سیاسی اختلاف رائے اب صرف نظریاتی ٹکراؤ نہیں رہا، بلکہ جان لیوا خطرہ بن چکا ہے — اور ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار ریاست میں اختلاف کرنے والوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی رہ گئی ہے؟
آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ: بھارتی ریاستی وزیر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں








