دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے سیزفائر مذاکرات کے بعد سڑکوں پر عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی شہریوں نے کہا کہ وہ افغانی فریق پر اعتماد کرنے سے قاصر ہیں اور ان کا موقف سخت اور واضح ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ ان کے نزدیک گزشتہ عرصے میں افغانستان کی بعض کارروائیوں نے پاکستانی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاک فوج نے بعض ایسے واقعات کے خلاف کارروائی کی تو افغان فریق مذاکرات کے پیچھے چھپ گیا — اس لیے عوام کا اعتماد ٹوٹا ہے۔
بعض بیان دینے والوں نے کہا کہ اگر سرحد پار سے دوبارہ ایسی کارروائیاں ہوئیں توعوام اور مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب کوئی بھی قوت، چاہے براہِ راست یا بالواسطہ، اگر پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرے گی تو اسے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ایک شہری نے جذباتی انداز میں کہا،ہم نے افغانیوں کے ساتھ ہمیشہ بھائی چارے جیسا سلوک کیا، مگر اگر جنگ ٹھونسا گیا تو ہماری فوج اپنا فرض پوری طاقت سے انجام دے گی۔
کئی لوگوں نے یہ تاثر بھی ظاہر کیا کہ پاکستان اور اس کی قوت کے مظاہرے کے بعد افغان فریق مذاکرات کی طرف راغب ہوا — اس لئے کچھ شہری اس مذاکراتی عمل کو چہرہ بچانے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ عوام کی پریشانیاں بنیادی طور پر سکیورٹی خدشات، غیر یقینی مستقبل اور سرحدی واقعات کے متعلق ہیں۔ تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ عوامی ردعمل میں غصہ، تحفظ کا احساس اور مستقبل کے بارے میں بےچینی ایک ساتھ دکھائی دیتی ہے — اس لیے امن مذاکرات کی شقوں اور ان پر عملدرآمد کی شفافیت عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہوگی۔
دوحہ مذاکرات کے بعد پاکستانی عوام کا ردعمل،ہم افغانیوں پر اعتماد نہیں کر سکتے








