مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اعلان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کسی “غیر فطری حکومت سازی” کا حصہ نہیں بنے گی اور اگر پیپلز پارٹی تحریکِ عدم اعتماد لاتی ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے، تاہم مسلم لیگ ن اس عمل میں شریک نہیں ہوگی اور کسی نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ڈسپلن اولین ترجیح ہے، اور جو بھی رہنما پارٹی پالیسی سے انحراف کرے گا، اسے کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایک حقیقی، نمائندہ حکومت صرف شفاف عام انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیرمہاجرین اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہے، اور وہ آئینی و سیاسی بحران کے حل میں بھی تعمیری کردار ادا کرتی رہے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں بھرپور انتخابی مہم چلائے گی اور عوامی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر کی سیاست میں مسلسل بے یقینی اور کشیدگی دیکھی جا رہی ہے، اور مختلف جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔
مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان، اب اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ








