لاہور اور پنجاب کے وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے کھلی فضا میں سانس لینا شہریوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
لاہور کے راوی روڈ علاقے میں صبح کے اوقات میں ائیر کوالٹی انڈیکس (AQI) 810 تک پہنچ گیا، جبکہ شہر میں اوسط AQI 367 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا۔ گوجرانوالہ میں 627 اور فیصل آباد میں 434 AQI درج ہوا۔
ماہرین شہریوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ محکمہ تحفظ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ہوا کے کم دباؤ والے زونز اور سرحد پار سے آنے والی آلودگی اسموگ میں اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ بھارتی پنجاب سے آلودہ ہواؤں کی آمد سے لاہور اور وسطی پنجاب کی فضاء متاثر ہو رہی ہے، اور اسموگ کے اثرات لاہور، قصور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ میں واضح ہیں۔
ترجمان کے مطابق رات اور صبح کے اوقات میں نمی 95 سے 100 فیصد تک پہنچنے کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے، اور جنوبی پنجاب و بھارتی پنجاب سے آنے والے دھوئیں اور گرد ذرات لاہور کی فضاء کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔
زرعی علاقوں میں فصلوں کی کھلی آگ جلانے سے بچنے کے لیے مساجد اور دیہات میں آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے، اور کسانوں کو بھی احتیاط کی ہدایت دی جا رہی ہے۔
لاہور کے زیادہ آلودگی والے علاقوں میں اسموگ گنز کے ذریعے فضاء میں برسات جیسا اثر پیدا کیا جا رہا ہے، جس سے فوری طور پر آلودگی میں کمی لائی جا رہی ہے۔ محکمہ تحفظ ماحولیات کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں فضائی آلودگی کی شدت میں کمی متوقع ہے۔









