پنجاب حکومت نے حال ہی میں نیا بلدیاتی ایکٹ منظور کیا ہے، جسے ماہرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے کہتے ہیں کہ لوکل گورننس کے بہتر نتائج کے لیے نظام کو آئینی تحفظ دینا ضروری ہے۔
چیئرمین استحقاق کمیٹی نے کہا کہ نئے ایکٹ کے تحت تحصیل کونسلز اور میونسپل کارپوریشنیں مضبوط کی جائیں گی جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل ختم کی جا رہی ہے۔ الیکشن مکمل ہونے کے بعد 60 ہزار سے زائد نمائندے منتخب ہوں گے جو اپنے مسائل خود حل کر سکیں گے۔
ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سینٹر نے بتایا کہ پنجاب میں طویل عرصے بعد بلدیاتی انتخابات ہوں گے، جس سے لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط ہوگا اور عوامی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
سول سوسائٹی کے نمائندے نے کہا کہ بلدیاتی ادارے سیاسی قیادت کے لیے تربیتی پلیٹ فارم ہیں اور نمائندے بنیادی سطح پر مسائل حل کرنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے انتخابات سے پہلے خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹ میں درست اندراج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سیاسی تجزیہ نگار کے مطابق نئے ایکٹ میں اختیارات زیادہ تر بیوروکریسی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور خواتین کی نمائندگی کم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے تسلسل کے لیے آئینی تحفظ اور لازمی تربیت ضروری ہے تاکہ گڈ گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔
نیا بلدیاتی ایکٹ خوش آئند، مگر آئینی تحفظ ضروری








