دہلی کی فضاء خطرناک حد تک آلودہ ہونے کے باوجود بھارتی حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں سامنے آ گئی ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دہلی کے آنند وہار آلودگی مانیٹرنگ اسٹیشن کے اردگرد میونسپل ٹینکرز دن رات پانی چھڑک کر فضائی آلودگی کے اصل اعداد و شمار کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 30 میٹر کے علاقے میں متعدد ٹرک مسلسل پانی چھڑک رہے ہیں تاکہ سینسرز کے قریب گرد و غبار کم ہو اور ڈیٹا میں آلودگی کی شرح مصنوعی طور پر گھٹ کر دکھائی جائے۔
عام آدمی پارٹی کے صدرسوربھ بھردواج نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری کی، جس میں پانی چھڑکنے کے مناظر دکھائے گئے۔ ان کا کہنا تھا، “یہ مودی حکومت کا آلودگی کنٹرول نہیں، بلکہ ڈیٹا مینجمنٹ کی مثال ہے۔”
سینئر رہنما منیش سسوڈیا نے بھی اس پر سخت ردعمل دیا اور کہا، “ہوا کو آلودہ کریں، اعداد و شمار کو کم کریں، پانی سے سچائی چھپائیں — یہی بی جے پی کا آلودگی کنٹرول ماڈل ہے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ جب سہ پہر میں پانی چھڑکنے کا عمل کم کیا گیا، تو آلودگی کی سطح 54 فیصد تک بڑھ گئی۔ ماہرین کے مطابق دہلی کی فضاء اب بھی “خطرناک” زمرے میں ہے، لیکن حکومت مصنوعی صفائی کے ذریعے اصل صورتحال کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین اور سیاسی حلقوں کا الزام ہے کہ مودی حکومت حقیقت سے انحراف کرتے ہوئے “فراڈ ڈیٹا پالیسی” کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔









