لاہور(نیوزڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار ایاز امیر نامعلوم افراد کے حملے میں زخمی ،موبائل فون اور پرس بھی چھین لیا گیا،ادھر وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے واقعے کا نوٹس لے لیا ۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شب ایاز امیر نجی ٹی وی کے دفتر سے نکلے تو نامعلوم افراد نے ایبٹ روڈ پر انہیں روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ حملہ آوروں نے تشدد کر کے ایاز امیر سے موبائل فون اور پرس بھی چھین لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں ایاز امیر کے کپڑے پھٹے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
صحافی طارق حبیب کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایاز امیر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ نجی ٹی وی پر پروگرام ختم کرنے کے واپسی پر سینئر تجزیہ کار ایاز امیرپر نامعلوم افراد نے حملہ کیا، ایاز امیر اور ڈرائیور پر تشدد کیا گیا۔
ایاز امیر نے بتایا کہ دفتر سے نکلتے ہی ایک کار نے ہماری گاڑی بلاک کی اور 6 افراد نے تشدد کیا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے بعد جارہا تھا، ایک گاڑی نے میرا راستہ روکا، ہماری گاڑی کو روک کر مجھ پر تشدد کیا گیا، ایک شخص نے ماسک پہنا ہوا تھا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب اوروزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نےایاز امیر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کا حمزہ شہباز نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب ،مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما پرویز رشید،سابق وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب ، ڈاکٹر شہباز گل نے نے بھی ایازامیر پر حملے کی مذمت کی۔
سی سی پی او نے ایس پی سول لائنز سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق سی سی پی او نےسینیئرصحافی پر مبینہ تشدد کے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
دریں اثناسینئرصحافیوں وتجزیہ کاروں نے ایاز امیر پر حملے پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔
سینئر صحافی وتجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کی جانب سے ایاز امیر پر تشد کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا یہ بہت ہی شرمناک حرکت ہے، شدت سے مذمت کرتا ہوں، قانون کو حرکت میں آنا چاہیے، ایاز امیر دفترسے نکلے تو ان پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایاز امیر ایک قابل احترام صحافی ہیں، پنجاب حکومت کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے، حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتارکیا جائے، تمام صحافی یونینز کو اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایاز امیر سے سیاسی اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن حملہ بہت سنجیدہ بات ہے، یہ پنجاب کی انتظامیہ کے لیے چیلنج ہے، ایاز امیر کا اپنا ایک انداز ہے، جس طرح حملہ کیا گیا ہے بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ حملہ ہوسکتا ہے، دنیا نیوز، ایاز امیر کو وارننگ دی گئی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کے خلاف ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، ایاز امیر دفتر سے گھر جا رہے تھے جب انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے، یہ بہت افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔
سینئر صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ سینئر صحافی ایاز امیر پر بزدلانہ حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے امید رکھتا ہوں کہ وہ حملہ آوروں کو قرار واقعی سزا دلوائیں گے۔
سینئرصحافی وتجزیہ کار سہیل وڑائچ،اینکر پرسن ارشد شریف ودیگرنے بھی ایازامیر پرحملے کی مذمت کی۔
نامعلوم افراد کا حملہ، تھپڑ مارے گئے، کپڑے پھاڑ دیئے گئے، موبائل فون چھین لیا گیا pic.twitter.com/7K93HsAuwv
— Noor🌸 (@iam_hoor) July 1, 2022









