بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا حکم دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کمسن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا کے بعد اسی فیملی کے خلاف مقدمات درج کرنے کے واقعے پر پولیس اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمسن بچیوں کی والدہ کا بیان قلمبند کرے اور رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری محمد وقاص کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مشرف رسول کی جانب سے درج شدہ مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ویڈیو شواہد واضح ہیں کہ تین بچیوں اور ان کی والدہ کو اغواء کیا گیا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بچیوں اور والدہ کے ساتھ زیادتی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی۔
عدالت نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے شہریوں کے اغواء، گھروں میں زبردستی داخلے، ڈکیتی اور جھوٹے مقدمات بنانے کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر کرائمز ایف آئی اے ایک خصوصی جے آئی ٹی تشکیل دیں۔ پولیس رپورٹس جمع ہونے کے بعد ایف آئی اے کیس کی مکمل تفتیش کرے گی۔
اسلام آباد کے آئی جی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ جس ایف آئی آر کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ کب درج ہوئی، اور کہا کہ پنجاب پولیس نے گاڑیوں کو گھر سے نکالا جس کی فوٹیج بھی موجود ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کیس میں پولیس کی تفتیش نہیں ہو گی کیونکہ دونوں فورسز پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
درخواست گزار کے وکیل لطیف کھوسہ نے آئی جی کے بیان پر عدم اعتماد ظاہر کیا۔ عدالت نے کہا کہ پولیس رپورٹ کے بعد ایف آئی اے اس معاملے کو دیکھے گی۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ پنجاب میں خاتون وزیر اعلیٰ ہیں، مگر پنجاب پولیس نے چادر و چار دیواری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک خاتون اور اس کی بچیوں کو گھر سے اٹھا کر تھانے میں بند کر دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کی گاڑیوں کی حوالگی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب کیس کی پراپرٹی ہے اور فی الحال واپس نہیں کی جا سکتی۔ کیس کی سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔