وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان 2035 میں اپنا پہلا مشن چاند پر بھیجے گا اور ملک کا پہلا خلا باز 2026 میں خلا میں جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے لیے ملک میں سیٹلائٹ لانچنگ پیڈ قائم کیا جائے گا اور سپارکو کو اس مشن کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کنکٹیوٹی تقریب سے خطاب میں احسن اقبال نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے تعلیم اور دیگر شعبوں تک رسائی ممکن ہوگی، اور ڈیجیٹل رسائی کو معیشت کی طاقت بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ ضروری ہو چکا ہے اور فائیو جی لائسنس کے اجرا کے لیے ہر ضلع میں فائبر کنکٹیوٹی پر کام ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کو معاشی نمو بڑھانے کے لیے استعمال کریں۔ مزید کہا کہ ایک حقیقی ڈیش بورڈ بنایا جائے گا جو انٹرنیٹ اسپیڈ اور روزگار میں اضافے کو چیک کرے گا۔
اس موقع پر پاک سیٹ کے سی ای او ڈاکٹر شاہد رشید نے کہا کہ پاکستان نے 2024 میں پاک سیٹ لانچ کیا، جو بزنس کمیونٹی کو انٹرنیٹ فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ بن گیا ہے اور سیٹلائٹ براڈ بینڈ کے ذریعے ملک میں بڑے پیمانے پر خدمات فراہم کر رہا ہے۔
سپارکو کے چیئرمین محمد یوسف نے بتایا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی فراہمی سے براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی کوریج بہتر ہوگی اور اس کا مقصد قوم کو ڈیجیٹلی بااختیار بنانا ہے۔









