بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شاہ عبداللہ: غزہ میں امن نافذ کرنے والی فورس میں کوئی ملک شامل نہیں ہوگا

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوئم نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں بھیجی جانے والی فورس کا مقصد امن نافذ کرنا (Peace Enforcing) ہو تو کوئی بھی ملک اس میں شامل نہیں ہوگا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں شاہ عبداللہ نے وضاحت کی کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں بھیجی جانے والی فورس کو “امن نافذ کرنے” کی ذمہ داری دی گئی، تو ممالک اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیں گے۔
بادشاہ نے کہا:اہم سوال یہ ہے کہ غزہ میں بھیجی جانے والی سکیورٹی فورسز کا مینڈیٹ کیا ہوگا؟ ہمیں امید ہے کہ یہ فورسیں امن برقرار رکھنے (Peacekeeping) کے لیے ہوں گی، کیونکہ اگر مقصد امن نافذ کرنا ہوگا، تو کوئی ملک حصہ لینے کو تیار نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ امن برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ مقامی پولیس یا فلسطینی فورسز کی مدد کی جائے، اور اس کام کے لیے اردن اور مصر تربیت دینے کو تیار ہیں۔ لیکن اگر مقصد یہ ہو کہ فورسیں ہتھیار اٹھا کر غزہ میں گشت کریں، تو کوئی بھی ملک شامل نہیں ہونا چاہے گا۔
بی بی سی کے مطابق، شاہ عبداللہ کا یہ بیان امریکا اور دیگر ممالک کی اس تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم میں نہ پھنس جائیں۔
بادشاہ نے یہ بھی کہا کہ اردن اپنے فوجی غزہ نہیں بھیجے گا، کیونکہ ملک اس تنازعے سے سیاسی طور پر بہت قریب ہے۔ اردن کی نصف سے زیادہ آبادی فلسطینی نژاد ہے، اور ماضی میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں سے آنے والے 23 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو اردن نے محفوظ رکھا ہوا ہے، جو خطے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔