طبی ماہرین نے گزشتہ چند برسوں میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ رات کے وقت گھروں یا سڑکوں کی روشنی ہماری صحت پر کس طرح اثر ڈالتی ہے۔
گزشتہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ روشنی میں وقت گزارنا ذیابیطس، موٹاپا اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ رات کو مکمل تاریکی نہ ہونے کی صورت میں دل کی بیماریوں، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں کیا دریافت ہوا؟
جرنل JAMA Network Open میں شائع تحقیق کے مطابق، جو لوگ روشن کمروں میں سوتے ہیں ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 56 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ 32 فیصد اور فالج کا خطرہ 28 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں 49 سے 69 سال کی عمر کے 5 لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ ان افراد کو 2013 سے 2022 کے درمیان ایک ہفتے کے لیے لائٹ ٹریکرز پہنائے گئے، تاکہ رات 12:30 بجے سے صبح 6 بجے تک روشنی میں سونے کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
اہم نتائج:
زیادہ روشنی میں سونے والے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 47 فیصد اور دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا خطرہ 32 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
خواتین میں مردوں کے مقابلے میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
نوجوانوں میں بھی زیادہ روشنی میں سونا دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین نے کہا کہ یہ تحقیق صرف تعلق (correlation) دکھاتی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ روشنی خود ہی بیماری کا سبب ہے۔ تاہم، یہ شواہد بتاتے ہیں کہ رات کو روشنی کی موجودگی انسانی جسم کی اندرونی گھڑی (circadian rhythm) کو متاثر کرتی ہے، جو ہمارے جسم کے تمام افعال کو کنٹرول کرتی ہے۔
محققین کا مشورہ:
اگر رات کو مکمل تاریکی ممکن نہ ہو، تو کم روشنی یا مدھم روشنی کا استعمال کریں۔ یہ چھوٹا سا قدم بھی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
نتیجہ:
رات کو روشنی کی موجودگی اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق واضح ہے۔ جسم کی اندرونی گھڑی کو محفوظ رکھنے کے لیے رات میں کم سے کم روشنی میں سونا بہترین عمل ہے۔









