بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی،اپوزیشن کا واک آئوٹ

اسلام آباد: (نیوزڈیسک) سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی۔سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل کی 56 شقوں اور 3 شیڈول کی منظوری دی، سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

پی پی 25، ن لیگ 20 اور 6 آزاد سینیٹرز نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، ایم کیو ایم 3، اے این پی 3، باپ 4، ق لیگ کے ایک سینیٹر نے حق میں ووٹ دیا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے ترامیم کے حق میں ووٹ دیا، پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، ایم ڈبلیو ایم اور جے یو آئی ف نے ترامیم کی مخالفت کی۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر جان محمد بلیدی اجلاس کی کارروائی سے غیر حاضر رہے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے حق رائے دہی میں حصہ نہیں لیا، لیگی سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

قبل ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل شروع ہونے پر ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا، اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، سینیٹر روبینہ ناز کے اصرار کے باوجود پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

وزیر قانون کا سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تعاون پر تمام سینیٹرز کے مشکور ہیں، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام بنیادی نکتہ تھا، مشترکہ کمیٹی اجلاس میں تمام جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کی تیاری میں کاوشیں کیں، ہم سیاسی جماعتوں کے شُکر گزار ہیں، بعض شقوں میں مشاورت کے بعد اضافہ کیا گیا ہے، یہ متوازی نہیں آئینی عدالت ہے۔

پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے آئینی ترمیم کی حمایت کی، جے یو آئی ف کے سینیٹر احمد خان بھی آئینی ترمیم کی حمایت میں کھڑے ہوئے، حکمران اتحاد کے علاوہ جے یو آئی ف اور پی ٹی آئی کے ایک ایک سینیٹر نے حمایت کی۔

سینیٹر عرفان صدیقی اور جان محمد بلیدی ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے، سینیٹر ہمایوں مہمند نے سینیٹ میں اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی پر اعتراض کیا۔