بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چیئرمین پی ٹی آئی کا دی اکانومسٹ کے آرٹیکل پر شدید ردعمل، بشریٰ بی بی کے خلاف کردار کشی قرار دے کر قانونی کارروائی کا اعلان

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے اس آرٹیکل کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس میں بشریٰ بی بی سے متعلق مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس رپورٹ کو جھوٹ، شرانگیزی اور کھلی کردار کشی قرار دیتے ہوئے جریدے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔
نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی بہادری سے جیل کا سامنا کر رہی ہیں اور صرف عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس آرٹیکل کا مقصد بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بشریٰ بی بی پر عدت سے متعلق ’’گھٹیا اور بے بنیاد‘‘ الزامات لگائے گئے تھے، جن میں وہ باعزت بری ہو چکی ہیں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق موجودہ رپورٹ بھی ایک من گھڑت کہانی ہے اور ایسے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو توڑا نہیں جا سکتا۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ جب بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، اُس وقت اس نوعیت کے آرٹیکل کا سامنے آنا قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹس عموماً ’’اسپانسرڈ‘‘ ہوتی ہیں، اور پارٹی اس کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد اور غلط بیانی پر مبنی ہیں۔
واضح رہے کہ دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے اہم سیاسی اور سرکاری فیصلوں پر اثرانداز ہوتی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آمد کے بعد بنی گالہ میں مبینہ طور پر غیر معمولی رسومات انجام دی جاتی تھیں، جن میں کالے بکرے اور مرغیوں کی قربانیوں سے لے کر قبرستانوں میں ان کے سر پھینکنے تک کے دعوے شامل ہیں۔