پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مونس الٰہی کو ایک بڑا قانونی ریلیف مل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرپول نے مونس الٰہی کے خلاف گزشتہ دو سال سے جاری تحقیقات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے مونس الٰہی کے خلاف مجرمانہ الزامات کی بنیاد پر انٹرپول سے ان کی حوالگی کی درخواست کی تھی، اور یہ کہا تھا کہ مونس الٰہی قتل، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین الزامات میں مطلوب ہیں۔
تاہم، انٹرپول نے ان الزامات کی تفصیل کا جائزہ لیا اور مونس الٰہی کے خلاف کسی قسم کے قابلِ ذکر شواہد نہیں مل سکے۔ اس کے نتیجے میں مونس الٰہی اب انٹرنیشنل الرٹ پر نہیں ہیں اور ان کے خلاف مزید تحقیقات کا عمل بند کر دیا گیا ہے۔
مونس الٰہی کے وکیل نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مونس الٰہی کو ’’کلین چٹ‘‘ مل گئی ہے، اور یہ انصاف کی فتح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام نے جھوٹے الزامات لگا کر مونس الٰہی کو پریشان کیا تھا، لیکن وہ ہمیشہ اصولوں پر قائم رہیں گے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
یہ پیشرفت مونس الٰہی کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ پر منفی اثرات کم ہوں گے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر ان کے خلاف چلنے والی تحقیقات بھی اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی کو بڑا ریلیف، انٹرپول نے تحقیقات بند کر دیں








