ایران شدید خشک سالی سے گزر رہا ہے اور شمالی تہران میں ہزاروں افراد امام زادہ صالح مسجد میں جمع ہوکر بارش کے لیے اللہ کے حضور دعاگو ہوئے۔ اس سال دارالحکومت میں بارش کا ریکارڈ گزشتہ 100 برس میں سب سے کم رہا ہے، جبکہ ملک کے نصف صوبوں میں مہینوں سے بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں برسا۔
پانی کی شدید قلت کے باعث حکومت نے تہران کی ایک کروڑ آبادی کو پانی کی فراہمی وقفے وقفے سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ استعمال کم کیا جا سکے۔ دعا کے اجتماع میں خواتین اور مرد اسلامی روایت کے مطابق الگ الگ صفوں میں نمازِ استسقا ادا کرتے رہے۔
عام طور پر تہران میں خزاں کی بارشیں اور سردیوں میں البرز پہاڑوں پر برف جمی ہوتی ہے، جو شہر کے لیے پانی کا بڑا ذریعہ ہے، مگر اس سال پہاڑی چوٹیاں بھی خشک پڑی ہیں۔ مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے شہری روزانہ 30 لاکھ مکعب میٹر پانی استعمال کرتے ہیں، جبکہ پانی فراہم کرنے والے 5 بڑے ڈیموں میں سے ایک مکمل طور پر خالی ہے اور دوسرا صرف 8 فیصد پانی بچا ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ اگر جلد بارش نہ ہوئی تو حالات خطرناک حد تک بگڑ سکتے ہیں—یہاں تک کہ تہران کو وقتی طور پر خالی کرنے کی بات بھی زیرِ بحث آئی، تاہم حکومت نے وضاحت کی کہ صدر کا مقصد صرف عوام کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا تھا۔
خشک سالی نے ایران کے لیے حقیقی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے اور عوام اب بارش کے لیے دعا اور امید کے سہارے ہیں۔
ایران میں بدترین خشک سالی؛ ہزاروں شہریوں کی بارش کیلئے اجتماعی دعا








