بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران میں حجاب نہ پہننے پر سخت سزاؤں کا امکان، عدالتی سربراہ کا بیان

ایران میں خواتین کے حجاب نہ پہننے پر سخت اقدامات نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ملک میں سماجی بے قاعدگیوں سے نمٹنے کے لیے مزید سختی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے حجاب قوانین پر عمل درآمد میں نرمی پر تشویش کا اظہار کیا اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ حجاب کی خلاف ورزی پر مؤثر اور سخت سزاؤں کا اطلاق کیا جائے۔
عدالتی سربراہ نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اور تمام پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر سماجی بے اعتدالیوں میں ملوث افراد اور ان کے ممکنہ بیرونی روابط کی نشاندہی کریں اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایران میں حجاب کی خلاف ورزی پر سزاؤں کو نرم کروانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ معاشرت میں بے حیائی کو فروغ دیا جا سکے۔
تاحال ایرانی صدر یا حکومت کی جانب سے عدالتی سربراہ کے اس مطالبے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یاد رہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر سر ڈھانپنا اور ڈھیلے لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم نوجوان کرد لڑکی مہسا امینی کی تھانے میں مبینہ ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں حجاب پابندیوں پر کچھ نرمی دیکھی گئی تھی۔ ایران میں دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں درجنوں افراد کو بھی پھانسی کی سزا دی جا چکی ہے۔