وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے این اے 96 ہری پور میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کی ذاتی حیثیت میں پیشی کے حکم پر خود پیش ہونے کے بجائے اپنا وکیل بھیج دیا۔
الیکشن کمیشن نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف کیس کی سماعت 24 نومبر کو مقرر کر دی ہے، جبکہ رانا ثنا اللہ کو بھی اس حوالے سے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے دوران سماعت کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے اپنے بیان میں عوام کو پروپیگنڈا کی طرف مائل کیا اور الیکشن کمیشن اور اس کے عملے کے بارے میں دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے۔ عمر حمید کا کہنا تھا کہ ریلی اور جلسے کی اجازت کے بغیر منعقد کرنا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی، شہر ناز عمر ایوب اور بابر نواز خان کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ضمنی الیکشن میں دیگر امیدوار بھی اس معاملے میں شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اب اس کیس کی مزید سماعت 25 نومبر کو مقرر کی ہے، اور اس پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن میں ذاتی حیثیت سے طلبی پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وکیل بھیج دیا








