پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات کی قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبے کے اسپتالوں میں رجسٹرڈ تقریباً چھ ہزار کینسر کے مریض ادویات کی عدم دستیابی کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
خاص طور پر بلڈ کینسر کے مریضوں کے لیے ضروری دوائیں جیسے روکسولیٹینیب اور ایورولیمس اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ طویل مدت تک علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا نیلوٹینیب خریدی جانے کے باوجود سپلائی نہیں ہو سکی، جس کے باعث مریض مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں بلڈ کینسر کے مریضوں کا مفت علاج فراہم کیا جاتا رہا تھا۔
محکمہ صحت پنجاب نے سماء نیوز کو بتایا کہ کینسر کی کچھ ادویات کی خریداری کے ٹیسٹ جاری ہیں اور ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد سپلائی شروع ہو جائے گی۔ دیگر ادویات کے حوالے سے کمیٹی مزید تجزیہ کر رہی ہے، جس کے بعد دیگر دواؤں کی خریداری کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ صورتحال مریضوں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، کیونکہ وقت پر ادویات کی دستیابی علاج کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔









