تحریک انصاف (پی ٹی آئی) تاحال وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) میں اپنے مقدمات کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے، جسے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ پارٹی کے متعدد کیسز سپریم کورٹ سے ایف سی سی منتقل ہو چکے ہیں، تاہم قانونی ٹیم میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے یا نہیں۔
پارٹی کے ایک وکیل نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ اکثریتی رائے یہی ہے کہ ایف سی سی کے سامنے پیش ہو کر قانونی اعتراضات اٹھائے جائیں، لیکن حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے وکیل سمیر کھوسہ نے گزشتہ روز ایف سی سی کے چھ رکنی بنچ کے سامنے بتایا کہ انہوں نے اپنے موکل کو عدالت کی آزادی اور اس سے جڑے تحفظات پر مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا:میرے موکل کو اب میرے مشورے پر غور کرنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا متبادل قانونی نمائندگی کا انتظام کریں گے۔”
وکلاء کی ایکشن کمیٹی نے بھی گزشتہ میٹنگ میں وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر اتفاق رائے قائم نہیں کر سکی۔
اسی حوالے سے بیرسٹر صلاح الدین احمد نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ وہ ایف سی سی میں حکومتی مقدمات کی نمائندگی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فورم میں تبدیلی اور عدالتی تقرریوں پر حکومت کے حد سے زیادہ کنٹرول سے مختلف وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کی وجہ سے وہ اس عدالت میں اپنا کردار ممکن نہیں سمجھتے۔
پی ٹی آئی وفاقی آئینی عدالت میں مقدمات چلانے کے حوالے سے فیصلہ نہ کر سکی








