بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سزایافتہ افسر کو صدر میڈل، آئینی عدالت بنالی لیکن کام نہیں، جسٹس محسن کے سخت ریمارکس

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے کہ جس ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو عدالت نے سزا دی تھی، اسے صدر میڈل پہنایا جا رہا ہے، اور اب آپ نے آئینی عدالت بھی بنا دی لیکن کام پھر بھی نہیں ہو رہا۔
یہ ریمارکس اسلام آباد کے پٹوار سرکلز میں پرائیویٹ افراد کے سرکاری کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ پٹواریوں کی اسامیوں کے لیے درست اشتہار دوبارہ جاری کرے۔
جسٹس محسن نے کہا کہ “کیا ہر کام توہین عدالت کے نوٹس کے بعد کرنا ہے؟ جس ڈی سی کو ہم نے سزا دی تھی، اسے صدر میڈل دے دیا جاتا ہے۔ جب میں توہین عدالت کا نوٹس لوں گا، تو وقت دینے کے بجائے فوراً کارروائی کر کے جیل بھیج دوں گا، میڈل ویڈل یہیں رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “سب کچھ آپ لوگوں کے لیے ہو رہا ہے، ہر فیصلے کے پیچھے عدالت کھڑی ہے۔ بے ایمانی اور بدنیتی کے ساتھ کام کرنے سے یہ نظام نہیں چل سکتا۔ لوکل باڈیز کے انتخابات اسی لیے نہیں ہوتے کیونکہ ہر غلط طریقہ کار اور بے ایمانی کی راہ کھلی رہتی ہے۔”
جسٹس محسن نے انتظامیہ کو واضح ہدایت دی کہ اسلام آباد میں پٹواریوں کی اسامیوں کا اشتہار درست طریقے سے جاری کیا جائے اور اشتہارات میں غلط کوٹہ یا غیر متعلقہ اضلاع کے پٹواری شامل نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سماعت پر درست اشتہار پیش کرنا لازمی ہوگا۔عدالت نے کیس کی اگلی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی۔