مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے معروف اخبار کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ مارا، جس نے عالمی صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کے مطابق بھارتی حکام نے کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کشمیر ٹائمز مبینہ طور پر “علیحدگی پسند نظریات” کو بڑھاوا دے رہا تھا۔
آئی ایف جے نے واضح کیا کہ اخبار میں حال ہی میں شائع ہونے والا مضمون
ایس آئی اے کے چھاپے: ہمیں خاموش کرنے کی ایک اور کوشش
غیر معمولی پذیرائی حاصل کر رہا تھا، جس کے فوراً بعد بھارتی پولیس نے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا۔
اسپیشل انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے دعویٰ کیا ہے کہ دفتر سے اسلحہ، گولہ بارود اور ڈیجیٹل ڈیوائسز برآمد کی گئی ہیں، تاہم کشمیر ٹائمز نے ان الزامات کو انتہائی مضحکہ خیز، بے بنیاد اور گھڑت قرار دے دیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حکومت پر تنقید کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، مگر بھارتی ریاست مسلسل میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
عالمی صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اختلافی آوازوں اور آزاد میڈیا کو خاموش کرنے کے لیے خوف اور جبر کا سہارا لے رہا ہے، جو بنیادی آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
آئی ایف جے نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا اداروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں اور صحافیوں کو بلا خوف و خطر اپنا کام کرنے دیا جائے۔









