سندھ ہائیکورٹ نے غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کے خلاف دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ختم کرنے کی درخواست قبول نہیں کی جا سکتی، اور دونوں ملزمان کے خلاف کیس جاری رہے گا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں ملزمان کو پہلے غیر قانونی طور پر لاپتا کیا گیا، غنی امان چانڈیو کو اسپتال سے اور سرمد میرانی کو گھر سے اٹھایا گیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ دائر کیا گیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔
ابتدائی طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے دونوں کو مقدمے سے بری کر دیا تھا، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کو ریمانڈ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
اب دونوں ملزمان عدالتی ریمانڈ پر جیل میں موجود ہیں اور مقدمہ کی کارروائی جاری رہے گی۔









