وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی بھرپور دعوت دی اور یقین دلایا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بحرین دہائیوں پر محیط قریبی اور برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں، اور اس دورے کا مقصد ان تعلقات کو اقتصادی میدان میں نئی سمت دینا ہے۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور دیگر جدید شعبوں میں تعاون کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
اپنے خطاب میں شہباز شریف نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محنت اور بہترین کارکردگی سے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی شناخت دنیا کے ہر حصے میں روشن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال بحرین میں مقیم پاکستانیوں نے 484 ملین ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجیں، جس پر وہ اعلیٰ بحرینی قیادت اور پاکستانی کمیونٹی کے شکر گزار ہیں۔ وزیراعظم نے کمیونٹی سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بحرین کے بھی شاندار سفیر بنیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بحرین کی مالیاتی ترقی، انسان دوست پالیسیاں اور جدید معاشی ماڈل ہمارے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ پاکستان اپنی افرادی قوت، قدرتی وسائل اور اسٹریٹیجک محلِ وقوع کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار ہے، جبکہ بحرین کی مالیاتی مہارت دونوں ملکوں کو مل کر نئی کامیابیاں حاصل کرنے کا موقع دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی اصلاحات کے ذریعے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے، اور یہی بہترین وقت ہے کہ بحرینی سرمایہ کار پاکستان آئیں اور مشترکہ منصوبوں کا حصہ بنیں۔ حکومت سرمایہ کاری، جوائنٹ وینچرز اور کاروباری تعاون کے لیے مکمل سپورٹ فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے نوجوانوں کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے، جو نہ صرف چیلنج ہے بلکہ ایک بڑی نعمت بھی ہے۔ حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور جدید ٹیکنیکل مہارتوں سے لیس کر رہی ہے، اور بحرینی اداروں کے ساتھ مل کر اس صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور جی سی سی کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے، جو خطے میں تجارت اور معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔









