آسٹریلیا (نیوزڈیسک) مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جنسی استحصال پر مبنی تصاویر بنانے والی تین نیوڈیفائی ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی انٹرنیٹ سیفٹی کمشنر نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز جو کسی بھی شخص کی تصویر کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے عریاں کرکے پیش کرتے ہیں، آسٹریلوی اسکولوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔
ای سیفٹی کمشنر جولی اِنمین گرانٹ نے مزید بتایا کہ ان تین ویب سائٹس کو بند کرنے سے قبل باضابطہ انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ خلاف ورزی پر 4 کروڑ 95 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک کے جرمانہ ہوسکتا ہے۔
ان کے بقول اس کے باوجود متعلقہ ویب سائٹس نے اپنے پلیٹ فارمز پر بچوں کے استحصال کو روکنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے بلکہ بعض فیچرز کو ایسے انداز میں مارکیٹ کیا جا رہا تھا جس سے نابالغ لڑکیوں کی تصاویر کے غلط استعمال کو فروغ ملتا تھا۔
یہ ویب سائٹس ماہانہ تقریباً ایک لاکھ آسٹریلوی صارفین کی جانب سے دیکھی جا رہی تھیں اور ان کا تعلق اسکول طلبا کی جعلی جنسی تصاویر کے کئی ہائی پروفائل کیسز سے بھی جڑا ہوا تھا۔
آسٹریلیا میں آن لائن بچوں کے تحفظ کے لیے نمایاں اقدامات کیے جا رہے ہیں اور چند روز قبل ہی 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی جب کہ ڈیپ فیک ایپس کے خلاف کارروائی کی گئیں۔
بین الاقوامی سروے بتاتے ہیں کہ نوعمر افراد کے درمیان غیر رضامندی پر مبنی AI ڈیپ فیک تصاویر کا مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
امریکی تنظیم تھورن کے مطابق 13 سے 20 سال کے 10 فیصد نوجوان ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں جس کی جعلی برہنہ تصویر بنائی گئی، جب کہ 6 فیصد خود اس کا شکار بنے۔









