اسلام آباد (صغیر چوہدری) – کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) نے شوگر ملز کے ایک بڑے کارٹل کو بے نقاب کیا ہے جو چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے میں ملوث تھا۔ کمیشن نے 10 شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
کمیشن کے مطابق یہ شوگر ملز پنجاب میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر کے ذریعے خود ساختہ قیمتیں مقرر کر رہی تھیں۔ کارٹل بنانے والے مالکان نے گنے کی قیمت 400 روپے فی من مقرر کی، جبکہ کسانوں کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا اور ان کے نمائندے کی حاضری بھی نہیں رکھی گئی۔
سی سی پی کی تحقیقات کے مطابق 10 نومبر کو فاطمہ شوگر ملز میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی، جس کی صدارت ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رانا جمیل احمد شاہد نے کی۔ میٹنگ میں دیگر شوگر ملز کے نمائندے آن لائن شریک ہوئے اور اس دوران فیصلہ کیا گیا کہ گنے کی کرشنگ کا عمل 28 نومبر سے شروع کیا جائے گا۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کارٹل بنا کر قیمتیں فکس کرنا کمپیٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور اس غیر قانونی فعل کے باعث چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
شوکاز نوٹس فاطمہ شوگر ملز، شیخو شوگر ملز، تھل انڈسٹریز کارپوریشن، تاندلیانوالہ شوگر ملز (رحمن ہاجرا یونٹ)، جے کے ون شوگر ملز، اشرف شوگر ملز اور کشمیر شوگر ملز کو جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سراج شوگر ملز، ٹو اسٹار شوگر ملز اور حق باہو شوگر ملز کے خلاف بھی نوٹس جاری ہوئے ہیں۔
کمیشن نے تمام شوگر ملز سے 14 روز میں تحریری جواب طلب کیا ہے اور اگر مقررہ مدت میں جواب نہ آیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔









