سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والے ای چالان اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر پیش رفت کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جہاں درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ شہر کا ٹریفک نظام درہم برہم ہے، سڑکوں کی حالت خستہ ہے اور متعدد ٹریفک سگنلز بھی فعال نہیں، اس کے باوجود اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
درخواست گزار نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت کے مطابق ای چالان کے جرمانوں سے متعلق نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا، جس کا مطلب ہے کہ صرف 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی قانونی طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ای چالان میں عائد بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور ہدایت کی کہ اس درخواست کو اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔









