دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا میں فائرنگ کا حالیہ سانحہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ تاجکستان میں تین چینی شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری براہِ راست افغان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام ہے اور اسے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ نے واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ یہ واقعہ خطرناک رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی دہشت گردی دوبارہ پھل پھول رہی ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔
تاجکستان میں ڈرون حملہ جس میں تین چینی باشندے مارے گئے، اس پر بھی پاکستان نے افسوس کا اظہار کیا اور واضح کہا کہ کابل حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے، کیونکہ ایسے حملے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق بیان کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بیانات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ سرحدی قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں ممالک مل کر اس کا قابلِ عمل حل تلاش کریں گے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا مختصر ورژن، سوشل میڈیا کیپشن یا ہیڈ لائن بھی بنا سکتا ہوں۔









