یوکرین (ویب ڈیسک) شہر سدیگورا میں واقع تاریخی کنیسہ (یہودی عبادت گاہ) جسے کلویز قدیشہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،رات گئے نذرآتش کردیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کسی طرح کنیسہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا اور آگ لگادی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص انتظار میں تھا اور جیسے ہی سیکیورٹی گارڈ چند لمحوں کے لیے کسی کام سے گیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتبہ شخص عمارت میں گھس گیا۔
تاریخی یہودی عبادت گاہ میں آگ لگنے سے مقدس کتب جل گئیں اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے البتہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ملزم کو سیکیورٹی گارڈ نے قابو میں کرکے پولیس کے حوالے کردیا گیا جس سے تھانے میں کافی دیر پوچھ گچھ کی گئی۔
ادھر مقامی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہی شخص تقریباً ایک ماہ قبل اسی علاقے میں ایک گرجا گھر کو بھی آگ لگانے میں ملوث تھا۔
پولیس کے بقول ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے کہ ملزم ذہنی امراض کا شکار ہے اور غیر متوازن شخصیت ہے تاہم اس کا نفیساتی معائنہ کرانا ابھی باقی ہے۔
180 سال قدیم ورثہ** یہ کنیسہ تقریباً **180 سال قبل** حسیدی رہنما **ربی اسرائیل آف رُوزہن** نے تعمیر کیا تھا، جو سدیگورا حسیدی بادشاہت کے بانی تھے۔
یہ مقام پہلی جنگِ عظیم کے دوران **متروک** ہوگیا تھا لیکن بعد میں اسے دوبارہ **بحال اور مقدس حیثیت کے ساتھ کھولا** گیا۔









