ملکی معیشت کے بارے میں وزارتِ خزانہ نے تازہ ترین معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مہینے (نومبر) میں مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی صورتحال محتاط انداز میں مثبت دکھائی دے رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ خوراک کی قیمتوں میں کچھ دباؤ موجود ہے اور زرعی پیداوار پر بھی اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، لیکن صنعتی سرگرمیوں میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں اقتصادی شعبہ بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے کا مجموعی منظرنامہ ملا جلا ہے، تاہم مناسب کھاد، بیج اور دیگر زرعی ان پٹس کی بہتر دستیابی سے حالات میں بہتری کی توقع ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے معاون اقدامات آنے والے ربیع سیزن میں زرعی سپلائی کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق معیشت مجموعی طور پر استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ ساختی اصلاحات کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں جبکہ مالیاتی نظم و ضبط میں مثبت پیش رفت اور محصولات میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ
حکومتی اخراجات محتاط پالیسی کے تحت جاری رہیں گے،
ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہورہا ہے،
اور معاشی منظرنامہ پہلے سے زیادہ مستحکم دکھائی دے رہا ہے۔
مزید برآں، ایل ایس ایم (بڑی صنعتوں) کی کارکردگی اور آئی ٹی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی قرضہ 1,371 ارب روپے کم ہو گیا ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ تقریباً پانچ سال بعد پہلی بار کسی ایک سہ ماہی میں قرض میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مہنگے قرضوں کی قبل از وقت واپسی سے مالیاتی خطرات کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ حکومتی معاشی حکمت عملی اب تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
ملکی معاشی صورتحال مثبت سمت میں، وزارتِ خزانہ کی آؤٹ لک رپورٹ جاری








