بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال داخل کیا گیا تھا، اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔ بی این پی کے رہنما مرزا فخرال عالمگیر نے 28 نومبر کی رات بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ خالدہ ضیا کی حالت تشویشناک ہے۔
دی ڈیلی اسٹار کے مطابق خالدہ ضیا کو دل، جگر اور گردوں کے مسائل کے ساتھ شوگر، پھیپھڑوں کے امراض اور آنکھوں کی بیماری بھی لاحق ہے۔ ان کے دل میں مستقل پیس میکر نصب ہے اور اس سے قبل دل کی شریانوں میں اسٹنٹس بھی لگے ہیں۔
خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان نے سوشل میڈیا پر عوام سے دعا کی درخواست کی اور کہا کہ وہ اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ سکتے، لیکن دعاؤں اور محبت کے لیے دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں والدہ کے قریب ہونا چاہتے ہیں، مگر وطن واپسی کا فیصلہ صرف ان کا نہیں ہے۔
خالدہ ضیا تین بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اور انہیں 2018 میں کرپشن کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا، جہاں انہیں بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے سے بھی روکا گیا۔ بعد ازاں وہ رہائی پا گئی تھیں۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی کہا کہ خالدہ ضیا جمہوریت کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں اور ان کی صحت یابی ملک کے لیے اہم ہے۔
اس کے باوجود، خالدہ ضیا نے فروری 2026 میں شیڈول ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا عزم برقرار رکھا ہے۔
سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید ناساز، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی دعا کی اپیل








