پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور اگر ممالک کے درمیان سفارتی روابط کم ہو جائیں تو اس کا نتیجہ لازماً کشیدگی اور غلط فہمیوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں رابطے جتنے مضبوط ہوں گے، تنازعات کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے گھبرانے کے بجائے اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں اے آئی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ چلنے کا واحد راستہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے۔
حنا ربانی کھر نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے نیوکلیئر رسک پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ نیوکلیئر سیفٹی کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچا جا سکے۔
چین کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین نے جدید ٹیکنالوجی کے لیے جامع اور منظم منصوبہ بندی کی، جس کی وجہ سے صرف دو سال میں برقی گاڑیوں (ای وی) کی مارکیٹ میں صفر سے دنیا میں سبقت لینے تک کا سفر طے کیا۔ ان کے مطابق یہ مثال واضح کرتی ہے کہ مستقل مزاجی، منصوبہ بندی اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اقوام کو غیر معمولی رفتار سے آگے لے جا سکتی ہے۔
سفارتی روابط کمزور پڑ جائیں تو کشیدگی بڑھتی ہے، حنا ربانی کھر








