اسلام آباد(نیوزڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی طرف سے کرپشن سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے ادارے کے قیام کی نئی شرط،حکومت کا ماننے سے انکار،آئی ایم ایف کے قرضے کی منظوری کا معاملہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف کے کہنے پر مشکل فیصلے کرنے کے باوجود عالمی مالیاتی ادارہ قرض کے اجرا پر تیار نہیں ہے اور اس کی طرف سے کرپشن سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا جارہاہے ۔آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ اس کی طرف سے فراہم کی جانے والی رقم کا بیشتر حصہ کرپشن کی نذر ہوسکتا ہے جب کہ حکومت پاکستان ایسے کسی نئے ادارے کو قائم کرنے پر تیارنہیں ہے،اس کا موقف ہے کہ یہ ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔چنانچہ کرپشن پر نئے ادارے کے قیام کے معاملے پر پیشرفت نہ ہونے کے باعث پاکستان کیلئے نئے قرض پروگرام کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چندروز میں ڈالرکی قدر میں معمولی کمی آنے کے بعدپھراضافہ شروع ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیرکو اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا تھاکہ اینٹی کرپشن قانون پر آئی ایم ایف پروگرام ملتوی ہونے کی خبروں میں حقیقت نہیں ہے جبکہ اس سے پہلے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف ایک ارب ڈالر کے لیے تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔
ادھرملٹی میڈیا ویب سائٹ ’’گلوبل ویلج سپیس‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہاگیا ہےکہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کا قرض کا یہ 22واں پروگرام ہے جو گزشتہ تمام 21پروگراموں سے مختلف ہے ،گزشتہ تمام پروگراموں میں امریکہ کی حمایت پاکستان کے ساتھ تھی خواہ سرد جنگ کازمانہ ہویا افغانستان پرقابض سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ یا پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو ،پاکستان امریکی کلب میں شامل تھا اور امریکہ کی تمام ترسیاسی حمایت اور ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ تھیں لیکن اس بار صورت حال یکسر مختلف ہے، امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو ٹھہرارہا ہے،چین کے ساتھ اس کی قربت سے ناراض ہے اور اس نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس پر بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے،ایک پٹی ایک شاہراہ اور سی پیک کے منصوبے امریکی مخالفت کی ایک اہم وجہ ہیں،چین مخالف مہم کا حصہ بننے سے پاکستان کا انکار امریکہ کو ہضم نہیں ہواچنانچہ اس بار آئی ایم ایف میں نہ صرف امریکہ کی سیاسی حمایت کھوچکے ہیں بلکہ ہم سے سخت سے سخت شرائط بھی منوائی جارہی ہیں۔مضمون میں کہاگیا ہے کہ چونکہ اقوام متحدہ اور بہت سے عالمی ادارے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کی بالادستی اور اثرورسوخ کے تحت قائم ہوئے تو امریکہ ان اداروں کو مخالف اقوام وملکوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعما ل کررہاہے۔ قرض کے 22ویں پروگرام پر بات چیت کے آغاز سے ہی پاکستان کو گورنراسٹیٹ بینک کی تقرری، سبسڈیزخاتمے اور بھاری ٹیکسوں کے نفاذجیسے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا،قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا ہی نتیجہ ہے۔مضمون کے مطابق آئی ایم ایف کے ارادے بہت واضح ہیں جب ہم اس کی پہلے سے رکھی گئی شرائط پوری کرنے کے قریب ہوتے ہیں تو وہ اضافی شرائط پیش کردیتاہے۔ایسالگتاہے کہ امریکہ پاکستان کے حوالے سے ’’ڈومور‘‘کی حکمت عملی اب آئی ایم ایف کے ذریعے ایک نئے انداز میں عمل پیرا ہے،پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے لیکن یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔
آئی ایم ایف کرپشن پر نیا ادارہ بنانے کیلئے بضد ،پاکستان کیلئے قرض کامعاملہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا








