وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کے شعبے میں نقصانات کو قابو میں رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ گیس کے گھریلو صارفین تقریباً 1 کروڑ ہیں اور پیٹرولیم پر لیوی میں اضافے کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لیوی میں اضافہ غریب طبقے کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں گیس کی کھپت کم ہوئی ہے اور گردشی قرض کے مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے تاکہ نظام کے پرانے نقصانات کی وصولی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 1800 ارب روپے کا ایندھن خرید کر استعمال کیا گیا، اور اس کی ادائیگی کا فیصلہ باقی ہے۔
علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ بجلی کے شعبے میں گیس کی کھپت کم ہو کر 400 ایم ایم سی ایف پر آ گئی ہے، اور اسے مستقبل میں مزید 200 ایم ایم سی ایف تک لانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سولر توانائی سے تقریباً 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور وزیراعظم اور کابینہ کی ہدایت کے مطابق توانائی کے شعبے کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
علی پرویز ملک: نقصان کو مینج کرنا آج بڑا چیلنج ہے








