اسلام آباد(نیوز ڈیسک )ہراسانی کا شکار خاتون طیبہ گل نے ڈی جی نیب کی آڈیو ویڈیوز پی اے سی میں چلا دیں۔
تفصیلات کے مطابق نور عالم خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے خاتون کو ہراساں کیے جانے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ طلبی کے باوجود جاوید اقبال پیش نہ ہوئے جبکہ ہراسانی کا شکار درخواست گزار خاتون طیبہ گل پیش ہوئیں۔
متاثرہ خاتون طیبہ گل اپنی روداد سناتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ جاوید اقبال نے مجھے جان سے مارنے اور ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیں، ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے برہنہ کر کے میری ویڈیو بنائی اور میری ویڈیو پر جاوید اقبال کو بلیک میل کرتا رہا۔
طیبہ گل نے پبلک اکاونٹس کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہ ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے کہنے پر تلاشی لیتے ہوئے انھیں برہنہ کر دیا گیا اور برہنہ وڈیو انکے شوہر کو دکھائی جاتی رہی۔جسٹس جاوید اقبال کے کہنے پر مجھ پر 42 مقدمات درج ہوئے لیکن میری دہائی کسی عدالت کسی پولیس نے نہیں سنی۔
انہوں نے کہا کہ میری ویڈیوز کا بینفشری کون ہے، جس کے مالم جبہ، بی آر ٹی ریفرنس سب ختم ہو گئے، 15 جنوری کی رات نیب نے مجھے گرفتار کیا، میرے خلاف جھوٹا ریفرنس تیار کیا گیا ، لاپتہ افراد کمیشن میں میرے شوہرکی چچی کے کیس کی سماعت میں جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی،انہوں نے مجھے فون کر کے ہراساں کرتے رہے، انہوں نے مجھے افسران سے ملنے پر جان سے مارنے اور ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیں۔
پی اےسی نے وزیراعظم سے جاوید اقبال کو لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کی سفارش کر دی اور آئندہ اجلاس میں انہیں دوبارہ طلب کر لیا۔
کمیٹی میں چیئرمین نیب پیش ہوئے اور ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کی پلی بارگین پر بریفنگ دی۔
پی اے سی نے چیرمین نیب کو مالم جبہ،بینک آف خیبر کرپشن کیسز کو دوبارہ کھولنے کاحکم دیتے ہوئے بی آر ٹی اور بلین ٹری منصوبے پر جلد ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔ پی اےسی نے نیب افسران کو اپنے اثاثوں کی تفصیل بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔
نور عالم خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر دوبارہ نہ ائے تو جاوید اقبال کا وارنٹ جاری کروں گا، پی اے سی اجلاس میں پیش نہ ہونے پر جاوید اقبال کے وارنٹ اور اخبارات مین اشتہارت دینگے۔
نور عالم خان نے کہا کہ وڈیوز اور تمام شواہد موجود ہے، مجھ پر بہت پریشر تھا کہ یہ معاملہ نا اجاگر کیا جائے، قوانین کے مطابق ہم اس معاملہ کو دیکھیں گے، جو قصور وار ہوگا انکے خلاف مقدمات چلائیں جائے گے، ایف ائی اور بھی ہوگی۔
ہراسانی کا شکار طیبہ گل نے ڈی جی نیب کی آڈیو ویڈیوز پی اے سی اجلاس میں چلادیں








