مغربی کنارے کے شہر رملہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سڑک کنارے نماز ادا کرنے والے ایک فلسطینی نوجوان کو اسرائیلی فوجی نے جان بوجھ کر گاڑی سے ٹکر مار دی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے اور اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے دانستہ طور پر گاڑی چلا کر فلسطینی نوجوان کو نشانہ بنایا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی کے کندھے پر رائفل لٹکی ہوئی ہے اور ٹکر لگنے کے بعد فلسطینی نوجوان زمین پر گر جاتا ہے، جبکہ موقع پر موجود دیگر اہلکار اسے وہاں سے ہٹنے کے لیے چیختے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ متاثرہ نوجوان کے والد، مجدی ابو مخو نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی دونوں ٹانگوں میں شدید درد ہے، جبکہ واقعے کے دوران فوجی اہلکار نے مرچوں کا اسپرے بھی استعمال کیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 750 سے زائد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عام شہریوں، خصوصاً عبادت میں مصروف افراد کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔









