نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوجی دستے بھیجنے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی حتمی حقیقت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان صرف اس صورت میں غزہ میں کردار ادا کر سکتا ہے جب اقوامِ متحدہ کے تحت قیامِ امن کے لیے واضح مینڈیٹ موجود ہو۔ تاہم پاکستان نہ تو حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل کا حصہ بنے گا اور نہ ہی سرنگوں کو تباہ کرنے جیسی کارروائیوں میں شامل ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا کرنا ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خلاف کھڑا کرنے کے مترادف ہوگا، جو پاکستان کے اصولی مؤقف کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا میں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ساڑھے تین ہزار فوجی غزہ بھیج رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور واضح اتفاقِ رائے موجود ہے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی میں شامل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ایسا اس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
نائب وزیراعظم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ممکنہ کردار صرف اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں امن مشن، انسانی ہمدردی، سماجی معاونت اور امدادی سرگرمیوں تک محدود ہو سکتا ہے۔ کسی مسلح گروہ کو غیر مسلح کرنا، اسلحہ واپس لینا یا زیرِ زمین سرنگوں کو نشانہ بنانا پاکستان کی ذمہ داری نہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گا جس میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے خلاف لڑایا جائے۔









