چین نے جدید ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دنیا کی تیز ترین میگنیٹک لیویٹیشن (میگ لیو) ٹرین کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اس جدید ٹرین نے محض دو سیکنڈ میں 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔
یہ غیر معمولی کامیابی چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی کے محققین نے حاصل کی۔ آزمائشی مرحلے کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام وزنی گاڑی کو صرف 400 میٹر طویل میگ لیو ٹریک پر انتہائی کم وقت میں اس رفتار تک پہنچایا گیا، جس کے بعد ٹرین نے محفوظ طریقے سے خود کو روک لیا۔
تجربے کی ویڈیو میں ٹرین بجلی کی چمک کی طرح ٹریک پر دوڑتی دکھائی دیتی ہے، جسے آنکھ سے مسلسل دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ٹریک پر بنتی ہلکی سی دھند نما لکیر اس رفتار کو مزید ڈرامائی بنا دیتی ہے، گویا یہ منظر کسی سائنسی فلم سے لیا گیا ہو۔
یہ ٹرین سپر کنڈکٹنگ میگنیٹس کی مدد سے پٹری سے اوپر معلق رہتی ہے، جس سے رگڑ تقریباً ختم ہو جاتی ہے اور رفتار میں حیران کن اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی الیکٹرو میگنیٹک ایکسیلیریشن ٹیکنالوجی مستقبل میں شہروں کے درمیان سفر کو چند منٹوں تک محدود کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اس میں راکٹ لانچ جیسے استعمال کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
واضح رہے کہ اس منصوبے پر تحقیق کرنے والی ٹیم گزشتہ دس برسوں سے اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔ رواں سال جنوری میں اسی ٹریک پر کیے گئے ایک تجربے میں ٹرین نے 648 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی تھی، جبکہ حالیہ کامیابی نے اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً تین دہائیاں قبل اسی یونیورسٹی نے چین کی پہلی انسان بردار سنگل بوگی میگ لیو ٹرین تیار کی تھی، جس کے بعد چین اس جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے والا دنیا کا تیسرا ملک بن گیا تھا۔









