بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیا ہم واقعی بلیک ہول میں رہ رہے ہیں؟ ماہرینِ طبیعیات کے خیالات

کچھ ماہرِ طبیعیات کا خیال ہے کہ ہماری پوری کائنات شاید کسی بڑے بلیک ہول کے اندر موجود ہو۔ یہ کوئی تصدیق شدہ حقیقت نہیں، بلکہ کچھ سائنسی مشاہدات اور نظریاتی خیالات کی بنیاد پر جنم لینے والا دلچسپ تصور ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ خیال کیوں سامنے آیا:
1) بلیک ہول اور کائنات میں مماثلت
بلیک ہول کی طبیعیات اور ہماری کائنات کی توسیع میں کچھ ریاضیاتی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہری سائنسی دلیل ہو سکتی ہے۔
2) بگ بینگ اور بلیک ہول کا مرکز
بگ بینگ کے وقت کائنات ایک انتہائی گھنے اور گرم نقطے سے پھیلتی دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح، بلیک ہول کے مرکز میں مادہ انتہائی گھنا ہوتا ہے۔ یہ مماثلت بعض سائنسدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید ہماری کائنات کسی بڑے بلیک ہول کے اندر بنی ہو۔
3) قابلِ مشاہدہ کائنات
ہم اپنی کائنات کو ایک حد تک ہی دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ محققین اسے بلیک ہول کے “ایونٹ ہورائزن” سے مشابہت دیتے ہیں—اس کے پار کیا ہو رہا ہے، اس کی معلومات ہم تک نہیں پہنچ سکتی۔
4) کوانٹم گریویٹی کی محدود سمجھ
ابھی تک ہم کششِ ثقل اور کوانٹم طبیعیات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے۔ اس نامکمل فہم کی وجہ سے مختلف عجیب و غریب نظریات سامنے آتے ہیں، جن میں یہ تصور بھی شامل ہے کہ ہم ممکنہ طور پر ایک بلیک ہول کے اندر موجود ہیں۔
یہ تمام نکات اس نظریے کو محض دلچسپ قیاس سے بڑھ کر ایک قابلِ غور سائنسی امکان بناتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک ایسا خیال ہے جو انسانی ذہن کو کائنات کی پیچیدگی اور اسرار کی طرف کھینچتا ہے۔