لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف دائر آئینی درخواست کو چھٹیوں کے بعد متعلقہ بینچ کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ کیا اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا ضروری ہے؟ عدالت نے معاملے کو اٹھایا، لیکن آپ نے دو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کے ذریعے درخواست دائر کی، حالانکہ یہ ایم پی ایز اسمبلی میں اس ایکٹ کے خلاف تقریر نہیں کر سکے تھے۔
عدالت نے مزید کہا کہ آپ نے اپنی پیٹیشن سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی ہے، اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کریں۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو عام شہریوں کی پراپرٹی سے متعلق ہے۔ عدالت نے وکیل کو مشورہ دیا کہ اگر یہ درخواست کسی متاثرہ شخص کی جانب سے دائر ہوتی تو بات سمجھ میں آتی، لیکن موجودہ درخواست پر افسوس ہوا کیونکہ اس سے حکومت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایکٹ کے تحت جائیداد سے متعلق اختیارات انتظامیہ کو دے دیے گئے ہیں، جس سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی میں فریقین کو وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں، اور سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرنا آئین سے متصادم ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ پراپرٹی اونرشپ ایکٹ اور اس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔
وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ اگر قانون میں خامیاں ہیں تو بطور قانون ساز انہیں چیلنج کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ایم پی ایز نے پہلے بھی لوکل گورنمنٹ ایکٹ چیلنج کیا اور چیف سیکرٹری کو خطوط بھی لکھے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ: اونرشپ ایکٹ 2025 کیخلاف درخواست، معاملے کو سیاست زدہ نہ کریں








