ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا دوبارہ ایران پر حملہ کریں تو ایران زیادہ فیصلہ کن جواب دے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل اور یورپ کی جانب سے جاری کشیدگی مکمل جنگ کے مترادف ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ یہ موجودہ تنازعہ عراق کی جنگ سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے، اور اس پر غور کرنے سے صورتحال کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جون میں اسرائیل نے ایران پر جارحیت شروع کی، جو 12 دن تک جاری رہی۔ اس دوران ایران میں فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں سمیت 400 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ تاہم ایران کی مؤثر جوابی کارروائی کے باعث اسرائیل کو سیز فائر پر مجبور ہونا پڑا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جنگی اخراجات کا جائزہ لیا جائے تو اسرائیل کا یومیہ خرچ تقریباً 205 ارب روپے تھا، جس سے مجموعی نقصان 8.7 بلین ڈالرز تک پہنچا، جبکہ ایران کو پہنچنے والے مالی نقصان کا تخمینہ بھی اربوں ڈالرز میں لگایا گیا ہے۔
ایرانی صدر: اسرائیل اور امریکا دوبارہ حملہ کریں تو فیصلہ کن جواب دیں گے








